Thursday, 17 April 2014

ہر سال حج کرنے کا خاص اور آزمودہ عمل

 
قارئین ہر سال بے شمار احباب تقاضا کرتے ہیں کہ کچھ حج کے احوال بیان کروں۔ بات سن کر خاموش ہو جاتا ہوں کہ ان کو کیا احوال بتاﺅں کہ حج پر لیکر جانیوالے (گروپ آرگنائزر) جن لوگوں سے واسطہ پڑتا تھا وہ بتاتے کیا تھے اور سامنا کسی اور بھیانک رویئے سے ہوتا تھا۔ بس سالہا سال یہ کشمکش رہی۔ احباب ایک دوسرا سوال یہ بھی کرتے رہتے ہیں کوئی ایسا عمل بتائیں کہ اسباب نہیں اور حج وعمرہ کرنے کو دل بہت چاہتا ہے۔ ان دو سوالات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے تجربات اور مشاہدات قارئین کی نظر کر رہا ہوں۔ پہلا سوال احباب یہ کرتے ہیں کہ اگر ہم حج کے لئے کسی پرائیویٹ گروپ کے ساتھ جائیں تو کوئی ایسے گروپ کی نشاندہی کریں جو کم قیمت بھی ہو اور خالص خدمت کا جذبہ بھی رکھتا ہو کیونکہ پرائیویٹ گروپ اور ان کے چکا چوند دعوے اور ہر حاجی کو سبز باغ دکھانے میں جو فن اور کمال رکھتے ہیں وہ ایک علیحدہ مکمل داستان بن سکتی ہے۔ قارئین تو یہاں تک بھی سوال کرتے ہیں کہ وہ کھانا کیا دیتے ہیں۔ کھانے میں کیا کیا ڈش کھلاتے ہیں؟ کوئی اضافی سامان، سہولت یا تحفہ حاجی کو دیتے ہیں جو کسی اور پرائیویٹ گروپ سے بڑھ کر ہو وغیرہ وغیرہ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز سوالات ہر سال بندہ سے کئے جاتے ہیں۔ حج کرنے والے حضرات مسلسل اصرار کرتے رہتے ہیں کہ ہماری رہبری کی جائے لیکن بندہ اس سلسلے میں خاموشی میں عافیت سمجھتا ہے۔ اب اس سال امید کی ایک کرن نظر آئی اور ایک واقعی خدمت کرنے والے حج گروپ سے واسطہ پڑا تو کچھ لکھ رہا ہوں تاکہ احباب اور قارئین تک سچی تصویر پہنچا سکوں۔ موجودہ حج گروپ (گلوبل حج اینڈ عمرہ سروس) جس کے سربراہ ڈاکٹر طاہر محمود (ایم بی بی ایس موبائل نمبر 0300-8652839)، ایک نیک صورت، نیک سیرت، مخلص ،درد دل رکھنے والے اور ہر حاجی کے لئے انفرادی توجہ لئے ہوئے دن رات پھرتے نظر آئے۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ وہ آرام کس وقت کرتے ہیں ۔ حاجی کیمپ میں پہنچتے ہی رات کی سخت سردی میں ڈاکٹر صاحب نے حج کے لئے جانے والے اور انہیں چھوڑنے والوں کو سینڈوچ،بسکٹ ، کیک اور چائے پیش کی۔ پھر حاجی کیمپ میں مزید چائے بسکٹ سے تواضع ہوئی۔ ہر حاجی کی رہبری خوش اخلاقی، محبت اور پیار سے کی گئی کیونکہ 95فیصد حاجی نووارد ہوتے ہیں۔ جو مناسک حج ،ارکان حج حتیٰ کہ احرام باندھنے تک کا طریقہ نہیں جانتے۔ مکہ مکرمہ میں فل پیکیج (چالیس دن) والوں کے لئے حرم کے نہایت قریب، بہترین بلڈنگ دی گئی۔ تھکے ہوئے حاجیوں کے لئے تیل مالش کرنے کے لئے دو آدمیوں کی ڈیوٹی اور حاجن عورتوں کے لئے دو خواتین کی ڈیوٹی ہمہ وقت موجود تھی۔ آپ کا سامان سواری سے کمرے تک خود پہنچے گا۔ آپ کو تھکنے، اٹھانے اور گھسیٹنے کی ضرورت نہیں۔ سفر حج شروع ہونے سے قبل ڈاکٹر صاحب نے ایک بڑے ہال میں تمام حج پر جانے والے خواتین وحضرات کو بلایا۔ طریقہ حج بہت تفصیل سے سمجھایا اور چلتے ہوئے ہر شخص کو حج کے لئے ضروری سامان بطور گفٹ پیش کیا، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ ایک عدد خوبصورت مضبوط اور بڑا بیگ ، ایک عدد چھوٹا ہینڈ بیگ، خواتین کے لئے برقعہ، اسکارف، دو عدد جرابوں کے جوڑے، قیمتی سامان رکھنے کے لئے بیلٹ، خوبصورت بنیان، بہترین سفید تولیہ، لکھنے کے لئے پیڈ اور قلم، چھوٹی قینچی، سوئی دھاگہ، ازاربندڈالنی، سیفٹی پن کا سیٹ، جیبی رومال، کنگھا ،شیشہ، مسواک، برش، نیل کٹر، حج وعمرہ رہنمائی کے لئے بیش قیمت مستند کتابیں، بیگ کے لئے تالہ، جوتے کے لیے مضبوط تھیلی۔ قارئین کے اگلے سوال کا جواب کہ کھلاتے کیا ہیں؟ مختلف اوقات میں جو کچھ کھلایا وہ مندرجہ ذیل ہے۔ گولڈن سیب ہر کمرے میں بکثرت موجود رہے، فانٹا، سیون اپ، پیپسی( ٹین پیک) جتنا چاہیں پئیں ،جتنا چاہے ڈائیننگ ہال میں استعمال کریں اور جتنا چاہیں کمروں میں لے جائیں۔ دو فریج اکثر بھرے رہتے تھے۔ آئس کریم کے دو ڈیپ فریزر میں نے اکثر بھرے دیکھے اور جی بھر کر لوگوں کو کھاتے دیکھا۔ اس کے علاوہ مختلف اوقات میں انگور، کیلے، ناشپاتی، دہی، مکھن، بالائی، حلوہ، انڈہ پراٹھا، انڈہ آملیٹ، چائے ہر کھانے کے ساتھ اور ہر وقت موجود، کسٹرڈ، فرنی، سادہ روٹی توے پر پکی ہوئی،ا سٹرابری جوس، اچار، شہد، جام کے جار اکثر کمروں میں موجود رہتے تھے اورہر ڈائیننگ ٹیبل پر بھی موجود رہتے تھے۔ دودھ پینے کے لئے، پینے کے پانی کی بوتلیںاور ہر کمرے کے سامنے زم زم کولر موجود رہتا تھا۔ کھانے میں پلاﺅ، بریانی، چھوٹے گوشت کا قورمہ، کالی مرچ میں پکی ہوئی سبزی ، دال مونگ، لسی، سجّی، خاص قسم کا روسٹ گوشت، روسٹ بٹیر، کوفتے، انڈے، چائنیز سوپ، زردہ پستہ بادام کے ساتھ) قیمہ مٹر، کدو چنے کی دال، پالک گوشت، رائیة، سبزیوں کا سلاد، دال ماش، چکن لیگ پیس، چائنیز چکن اور مزید چائنیز کھانے۔ ہر باتھ روم میں ڈیٹول سوپ ، لکس صابن اور سن سلک شیمپو۔ ہر وقت ٹھنڈا اور گرم پانی موجود تھا۔ کپڑے دھونے اور استری کرنے کے لئے دھوبی کی سہولت بالکل فری تھی۔ آپ چاہیں سینکڑوں کپڑے دھونے کے لئے دیں خود لے جائے گا اور خود دے جائے گا۔ اگر آپ دھوبی سے کپڑے نہیں دھلانا چاہتے تو چھت پر لفٹ کے ذریعے جائیں۔ بہترین واشنگ مشین اور سرف پاﺅڈر موجود تھا جو بالکلمفت تھا۔ کپڑے دھوئیں۔ رسیاں بندھی ہوئیں تھیں ڈالیں خشک کریں اور نیچے استری موجود تھی کہ خود کپڑے استری کر لیں۔ ورنہ تو حج کے دنوں میں پندرہ سے تیس ریال تک دھلائی ہم نے خود اپنی جیب سے اس سے قبل ادا کی ہے۔ مختلف جگہوں پر سفر کرنے کے دوران ملازمین کی سہولت جو آپ کے سامان کو مقررہ کمرے تک بحفاظت پہنچائے اس کے علاوہ تھی۔ اگر کسی عذر کے باعث آپ حرم نہیں جا سکتے تو با جماعت نماز کی سہولت اور مستند علماءکے بیانات ،ترتیب حج اور مسائل حج روزانہ بیان کیے جاتے۔ دوران حج گمشدہ افراد کے لئے گائیڈ کی سہولت موجودتھی۔ خود بندہ کے ساتھ یہ معاملہ ہوا کہ ہمیں ڈرائیور نے کسی انجانی منزل پر اتار دیا۔ ہماری منزل مزدلفہ تھی۔ رات کا وقت تھا ہم نے ڈاکٹر صاحب سے موبائل پر رابطہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ قریب کوئی بھی بس یا ویگن مل جائے، چاہے جتنے ریال لے، دے کر آجائیں وہ میں خود ادا کرونگا۔ ہم نے ایسا کیااور ایک ڈرائیور کو منہ مانگے ریال دیئے لیکن اس نے پھر کسی انجانی منزل پر اتار دیا۔پھر موبائل پر رابطہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے جگہ کا پتہ پوچھا۔ گھنٹے ڈیڑھ کے بعد ان کا آدمی ہاتھ میں کتبہ لئے، ڈھونڈتے ڈھونڈتے پہنچا اور رہبر بن کر ہمیں منزل تک پہنچایا۔ یہ معاملہ صرف ہمارے ساتھ نہیں تھا۔ حج کے پانچ دنوں کے دوران ہر حاجی پر انفرادی توجہ دی گئی اور ہر حاجی ڈاکٹر صاحب کو دعائیں دے رہا تھا۔بلڈنگ میں قیام کے دوران اگر آپ ٹرانسپورٹ کی سہولت لینا چاہتے ہیں اور چلنا نہیں چاہتے تو پانچ ایئر کنڈیشنڈ کوسٹر ہر وقت موجود تھیں جو آپ کو حرم لے جائیں اور لے آئیں۔ واضح رہے کہ حج کے پانچ دنوں کے دوران ہر گروپ لیڈر کا اعلان ہوتا ہے کہ ہر شخص اپنی ذمہ داری پر آئے ،جائے گا اور گزشتہ سالوں میں یہ ہمارے ساتھ ہوتا رہا حتیٰ کہ ویگن کی چھتوں پر ہم نے سفر کیا، لٹک کر سفر کیا لیکن ڈاکٹر صاحب نے خوب انتظام کیا تھا کہ منیٰ، مزدلفہ، عرفات، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، جدہ ان تمام اسفار میں کبھی نہ چھت پر بیٹھنا ہوا نہ بس کے فرش پر بیٹھنا ہوا، نہ لٹکنا ہوابلکہ ڈاکٹر صاحب نے ہر شخص کو سیٹ میسر کی اور ہر شخص کا انفرادی احترام کیا۔ دوران حج منیٰ میں مشہور عالم اور درویش حضرت سید جاوید حسین شاہ صاحب مدظلہ کی صحبت میں مسلسل وقت گزرا وہ ہر سال اس گروپ کے ساتھ تشریف لاتے ہیں۔ فرما رہے تھے میرا مشاہدہ ہے کہ یہ گروپ ہر سال اپنے انتظام کو بہتر سے بہتر بناتا ہے۔ فیصل آباد کے مشہور مبلغ مولانا محمد رفیق جامی صاحب بھی ہر سال اسی گروپ کے ساتھ تشریف لاتے ہیں وہ بھی بہت زیادہ تعریف کر رہے تھے اور دعائیں دے رہے تھے۔ معذور لوگوں کے لئے دوران حج اور حج کے علاوہ خاص توجہ اور دھیان کو ملحوظ رکھا گیا حتیٰ کہ یہاں تک کہ اگر وہ کنکریاں مارنے کے قابل نہیں ہیں تو ان کے لئے امانت دار لوگوں کا انتظام کیا گیا۔ جنہوں نے ان کی طرف سے شیطان کو کنکریاں ماریں اور بندہ نے اپنی آنکھوں سے ان لوگوں کو کنکریاں مارتے دیکھا۔ منیٰ سے مکہ مکرمہ واپس معذورین کو لانے کے لئے خصوصی سواری کا انتظام کیا گیا۔ حتیٰ کہ حاجیوں سے کہا گیا کہ وہ اپنا سامان منیٰ میں چھوڑ جائیں اور چاہیں تو آخری دن کنکریاں مارتے ہوئے آپ مکہ مکرمہ جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں ،سامان آپ کے کمروں تک پہنچ جائے گا۔ باتیں تو ساری انوکھی ہیں جو کسی اور پرائیویٹ گروپ میں نہ دیکھی نہ سنی نہ پائیں۔ ایک اور انوکھی بات یہ دیکھی کہ ساری سہولتیں دینے کے بعد بھی ڈاکٹر صاحب کی طرف سے حج کے بعد اعلان ہوا کہ حج کے پانچ دنوں کے دوران اگر کسی نے اپنی جیب سے کچھ خرچ کیا ہو وہ ڈاکٹر صاحب کو اطلاع کریں اس کی ادائیگی ہو گی اور واقعی ہوئی۔ میں نے ایک حاجی کو 85ریال لیتے ہوئے دیکھا ایک کو 40ریال لیتے ہوئے، ایک کو 65ریال۔ اس طرح مختلف حجاج کو کم وبیش ادائیگی کی گئی ۔ صفائی کا ایسا انتظام کہ پہلے کبھی نہ دیکھا۔ بستر اور تکیے کی چادر میلی ہونے سے پہلے تبدیل۔ بار بار عمرہ کرنے والوں کے لئے سواری اور سر منڈاونے کے لئے حجام کا انتظام ہروقت موجود۔ زیارات کے لئے اپنی نگرانی میں ایئر کنڈیشنڈ بسوں میں حاجیوں کو لے کر گئے۔ دوران جوس، بوتلوں اور پھلوں سے تواضع کی جاتی رہی۔ باقاعدہ اعلان ہوا جو لوگ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا چاہیں ان کے لئے سحری اور افطاری کا پرتکلف انتظام موجود ہو گا۔ جب مکہ مکرمہ پہنچے تو ہر حاجی کے لئے موبائل سم مفت دی گئی، جس میں 55ریال کا بیلنس تھا۔ میڈیکل بالکل مفت تھا بلامبالغہ ہزاروں روپے کی دوائی ہر حاجی کے لئے مفت تھی۔ عشاءکے بعد ڈاکٹر صاحب بیٹھتے ،مریضوں کو چیک کرتے اور مفت دوائی دیتے۔ ڈاکٹر صاحب کا موبائل کبھی بند نہیں ہوتاتھا۔ دن رات جس وقت جو ضرورت، جو تکلیف ،جو مسئلہ ہو ڈاکٹر صاحب کو کال کریں۔ ہر وقت دوائی موجود، ہر مسئلہ حل ،حتیٰ کہ ڈاکٹر صاحب ہر کمرے میں آکر خود چیک کرتے اور دوائی دیتے۔ میرے سامنے کئی مریضوں کی ایمرجنسیاں ہوئیں۔ گاڑی میں خود لے کر گئے، ہسپتال میں داخل کرایا اور پھر ان کی مسلسل خیر خبر لیتے رہے۔ مجھے تو ڈاکٹر صاحب گوشت اور پوست کے بنے ہوئے انسان کم اور روبوٹ زیادہ نظر آتے تھے ۔ عمومی تجربہ ہے کہ حاجی کو اتنا ستایا جاتا ہے، خاص طور پر پرائیویٹ گروپوں کے ساتھ کوئی حاجی کسی گروپ لیڈر کی دعا پر آمین نہیں کہتالیکن میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ڈاکٹر صاحب عرفات میں رو رو کر دعائیں کرا رہے تھے حضرت شاہ صاحب ،جامی صاحب اور سارے حجاج رو روکر آمین کہہ رہے تھے ۔معلوم ہورہا تھا کہ اللہ جل شانہ، نے دعا قبول فرما لی ہے۔ یہ کسی حج گروپ لیڈر پر اعتماد کی پہلی مثال دیکھی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کنکریاں مارنے کے لئے خود ساتھ جاتے تھے تاکہ کوئی راستہ نہ بھول جائے اور درست انداز سے حج کا یہ خاص عمل پورا ہوجائے۔ ہر رکن حج میں حتیٰ کہ طواف زیارت کے لئے خود ساتھ گئے اور حاجیوں کا خوب اکرام کیا۔ جدہ ایئر پورٹ پر حاجیوں کے سامان کے لئے خود انتظام کیا۔ کسی حاجی نے اپنا سامان پاس نہیں کرایا بلکہ ڈاکٹر صاحب نے تمام سامان کسٹم کے مراحل سے (چاہے جتنا بھاری سامان بھی تھا) خود پاس کرایا اور اپنی جیب سے خود ادائیگی کی ،شارٹ پیکیج والوں کے لئے (23دن) مدینہ منورہ میں بہترین فائیو سٹارموون پک جو حرم کی سب سے پہلی بلڈنگ ہے، میں قیام کرایا۔ کمروں میں بستر ٹھونسے نہیں اور کمروں میں زیادہ بیڈ نہیں لگوائے۔ حتیٰ کہ فیملی والوں کے لئے یہ سہولت دی کہ ان کی عورتوں اور مردوں کو بغیر اضافی چارجز کے ایک ہی کمرہ دیا جو کہ تین افراد کے لئے بھی تھا، دو کے لئے بھی، پانچ کے لئے بھی۔ مکہ مکرمہ میں شارٹ پیکیج والوں کے لئے فندق شہدا جو کہ فل فائیو سٹار اور حرم کے بالکل قریب ہے، اس میں بہت اعلیٰ کمرے دیئے اور کھانے کا ایسا اعلیٰ انتظام دیا کہ محسوس یہ ہوتا تھا کہ جیسے روز بارات کو کھانا کھلایا جائے ۔ بندے نے یہاں تک دیکھا کہ کوسٹروں کے ڈرائیوروں کو کمبل اور سینکڑوں ریال بھی تحفہ میں دیئے۔رات کے ڈیڑھ بجے جبکہ میں حرم سے ہوٹل واپس آرہا تھا، ان ڈرائیوروں کوخوش اور دعائیں دیتے ہوئے واپس جاتے دیکھا ۔ واپسی پر ہر حاجی کو پانچ کلو اعلیٰ کھجوریں ، دس لٹر کی زم زم کی پیک کین، ایک درجن تسبیح، ایک درجن خوبصورت ٹوپی، ایک عطر کی شیشی ، ڈرائی فروٹس ، انجیر اورخوبصورت کمبل دیا گیا۔ خواتین کو تین عدد خوبصورت اسکارف دیئے۔ بندہ چونکہ شارٹ پیکیج میں گیا تھا اور ہماری واپسی مدینہ منورہ سے تھی۔ مختلف حج گروپ کے حاجی بھی اسی جہاز میں تھے۔ ہم لائن میں لگے ہوئے تھے اور ہمارے پاسپورٹ سٹیمپ ہو رہے تھے۔ ایک حاجی نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کس پرائیویٹ گروپ کے ساتھ تھے ۔میں نے انہیں گلوبل حج عمرہ سروسز اور ان کا تمام پیکیج بتایا کہ انہوں نے کس طرح حاجیوں کی خدمت کی۔ یہ سن کر اُن کے آنسو نکل آئے۔ کہنے لگے میں نے تو آپ سے ڈبل پیسے دیئے تھے نہ ہمیں کھانا دیا، نہ کوئی گفٹ اور نہ کوئی سہولت بلکہ اتنا ذلیل ہوئے کہ اب تو نعوذ باللہ آئندہ حج پر جانے کو دل ہی نہیں چاہتا۔ ان کی یہ بات سن کر قریب ہی ایک اور صاحب کھڑے تھے وہ کہنے لگے کہ ایسا ممکن نہیں کہ کوئی اتنی سہولت دے اور میری طرف اشارہ کر کے نہایت حقارت سے کہنے لگے یا تو آپ جھوٹ بولتے ہیں یا آپ ان کے ایجنٹ ہیں۔ ویسے بھی حج کے بعد میں نے جسے بھی یہ پیکیج بیان کیا وہ حیران ہوا کہ اتنی کم قیمت میں اتنی سہولت اور اتنا اکرام اور اتنا انتظام۔ بعض نے ماننے سے انکار کر دیا اور بعض کو میری نیت پر شک گزرا۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ میں نے فی آدمی تیرہ لاکھ روپے دیئے لیکن مجھے یہ سہولیات نہیں ملیں۔ ایک نے سات لاکھ دیئے، ایک نے پانچ لاکھ دیئے، ایک نے چار لاکھ دیئے، اس طرح مختلف لوگوں نے اپنا پیکیج بتایا اور سہولیات بالکل صفر۔ دوران حج ایک دوست نے بتایا کہ میری ملاقات مفتی شیر محمد علوی صاحب سے ہوئی ۔وہ کسی کے حج بدل کے لئے ساڑھے پانچ لاکھ میں تشریف لائے تھے۔ کوئی سہولت نہیں تھی اور نہایت پریشان تھے ۔ اسی طرح مختلف لوگوں نے جب اپنے حج کی درد ناک کہانیاں سنائیں تو مجھے اپنے پچھلے سفر حج یاد آئے اور پھر یہ سہولت بھرا سفر تو دل سے ڈاکٹر صاحب کے لئے دعائیں نکلتیں ۔ قارئین! یہ چند سہولیات آپ کی خدمت اور پرزور اصرار کے بعد تحریر کیں ہیں حالانکہ اس گروپ کی یہ انوکھی خصوصیات ہیں جو شاید اور کسی گروپ میں نہ ہوں۔ یہاں ایک اہم بات ذہن نشین کر لیں کہ حج کا مقصد قربانی، مجاہدہ اور مشقت ہے ناکہ سہولیات۔ مطلب اورنیت تو یہ نہ ہوں ہاں اگر مل جائیں تو رب کی نعمت سمجھ کر استفادہ کریں ورنہ نیت یہ نہ ہو۔ ویسے قارئین بہت حج گروپ دیکھے، پُرکھے ،سُنے اور آزمائے لیکن یہ گروپ ہر لحاظ سے ایک عظیم خدمت کا جذبہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر سال مختصر تعداد میں حجاج کرام کو لاتے ہیںاورمحدود کوٹے کی وجہ سے ہرسال فروری سے حج کے لئے بکنگ شروع کر دیتے ہیں۔ قارئین یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے مجھے دعویٰ نہیں لیکن مسلسل سفر کے بعد یہ تجزیہ جو کہ خاص طور پر حج کے سفر پر بندہ نے تحریر کیا مجھے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ اس سے قبل سفر حج اور عمرہ پر باوجود قارئین کے اصرار پر کبھی نہیں لکھا۔ نوٹ: معاملہ میرا اور میرے رب کا ہے۔ میرا مقصد کسی کا ایجنٹ بن کر مقاصد یا مال حاصل کرنا ہے یا مخلوق خدا کو کسی درست اور مخلص انسان سے متعارف کرانا ہے۔ نیتوں کا حال اللہ جانتا ہے۔ خاص الخاص عمل:- بندہ شاہی مسجد لاہور کے ایک خادم کو جانتا ہے۔ نہایت غریب، مفلس شخص۔ دل میں بیت اللہ دیکھنے کی تڑپ تھی۔ کسی سے سوال بھی نہیں کر سکتا تھا۔ بندہ نے یہ عمل بتایا کچھ عرصہ کیا۔ ایک دن ایک صاحب قریب سے گزرے۔ کہنے لگے اللہ کا گھر دیکھنے کا شوق ہے ؟یہ تڑپ اٹھے کیوں نہیں۔ وہ صاحب کہنے لگے شناختی کارڈ فلاں جگہ پہنچا دینا اور یوں اس نے اللہ تعالیٰ کا گھر دیکھ لیا۔ ایک غریب عورت جو لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی، دل میں حج کرنے کی تڑپ تھی۔ اسے یہ عمل بتایا، اب تک 3حج کر چکی ہے۔ غیب سے اللہ تعالیٰ نے اسباب بنائے۔ اس طرح کے بیشمار واقعات ہیں اگر بیان کرنا شروع کر دوں تو احاطہ قلم سے بالاتر ہیں۔ خاص الخاص عمل یہ ہے: اذان کے بعد اور مسنون دعا کے بعد 3بارتلبیہ یعنی لَبَّیکَ اَلّٰلھُمَّ لَبَّیکَ آخر تک پڑھیں۔ حج کی نیت سے یا عمرے کی نیت سے 40روزاور روزانہ خوشبو لگا کر سورة والضحیٰ پڑھیں۔ یہ عمل نہایت خلوص اعتماد اور یقین سے کریں مسلسل اور مستقل، پھر رب کی قدرت کا کرشمہ دیکھیں۔(انشاءاللہ)

دانت اور داڑھ درد کا علاج / معجزاتی کلام، معجزاتی نتائج


قرآن مجید کے آسان طریقے اورتجربات عبقری کے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں۔ اللہ پاک اس کوشش کو قبول فرما کر ہدایت کا ذریعہ بنائے (آمین) (حافظ محمد رضوان ولد ظہور علی ، ملتان) دانت اور داڑھ درد کا علاج کسی کے دانتوں میں درد ہو،گرم ٹھنڈا لگتا ہو یا عقل ڈاڑھ نکلنے کی تکلیف ہو بعض لوگ اس کے نکلنے کے دوران تکلیف کی شدت برداشت سے باہر ہونے کی بنا پر نکلوا دیتے ہیں۔ میرا بھائی مجھ سے 2سال بڑا ہے اس کے دانتوں میں تکلیف رہتی تھی ۔ جب وہ 20 سال کی عمر میں تھا تو وہ ہر وقت اوپر بیان کردہ تکالیف کی امی سے شکایت کرتا اور ڈاکٹر سے علاج کرواتا۔ یہاں تک اب وہ دانتوں کی فلنگ بھی کروا چکا ہے جبکہ میں نے کلام اللہ کا سہارا لیا۔ نہ تو دانتو ں میں تکلیف رہی نہ ہی ٹھنڈا و گرم لگتا ہے۔ نہ ہی (عقل ڈاڑھ) نکلنے کی تکلیف محسوس کی ہے۔ میں نے درج ذیل طریقہ کو آزمایا ہے جو کہ بہت فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔اپنے جاننے والوں کو بھی بتایا ہے۔ (1) جب بھی دانتوں میں درد ہوا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائی ہوئی دعا پڑھی جو کہ درج ذیل ہے۔ ” اَلحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِینَ عَلٰی کُلِّ حَالٍ مَّاکَانَ “ 3مرتبہ اس دعا کو پڑھیں اور جس دانت یا ڈاڑ ھ میں درد ہو اس پر دم کر دیں۔ (2) عشاءکی نماز کے بعد جب وتر پڑھنے کیلئے کھڑے ہوں تو یہ تین سورتیں بالترتیب پڑھیں۔ سورۃ النصر، سورۃ اللہب، سورۃ اخلاص۔ سورتیں پڑھنے کا طریقہ یہ ہے۔ (i) پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ النصر ،(ii) دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اللہب، (iii)تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص پڑھیں اور وتر کی نماز اسی ترتیب قرات سے مکمل کریں۔ اس عمل کی مدت کچھ خاص نہیں ہے۔ جب آرام آجائے تو پھر چاہے پڑھیں یا نہ پڑھیں۔ بہتر یہی ہے کہ اسے اپنی روز مرہ وتر کی نماز کا حصہ بنا لیں۔ یہ میراتجربہ ہے اور میں نے آزمایا ہے۔ قارئین! آپ بھی آزمائیں اور دعا دیں۔ یقین کامل شرط ہے، شک ،وہم و گمان والے اس سے فائدہ کبھی نہیں اٹھا سکتے۔ شک بڑی سے بڑی کامیابی کو اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔ کلام اللہ شک و شبہ سے پاک ہے۔ معجزاتی کلام، معجزاتی نتائج جب مشکلات گھیر لیں، مصیبتیں جکڑ لیں، اندھیرا چھا جائے اور کچھ بھی سمجھ میں نہ آئے کہ کیا کیا جائے؟ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔ ایک اور تجرباتی اور آزمودہ کلام الٰہی کا (نسخہ عمل) برائے پریشان حال اور مشکلات میں پھنسے ہوئے انسانوں کو نکالنے کیلئے حاضر خدمت ہے۔ یہ آج سے تقریباً آٹھ برس پہلے کی بات ہے۔ایک دن میرے حفاظ کرام دوست مسجد سے نکل رہے تھے۔ عصر کی نماز کے بعد کا وقت تھا۔ وہ کچھ سورتوں کے بارے میں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے تھے تو میں نے بھی ان سے پوچھا اور انہوں نے مجھے ترتیب بتائی اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ ہمارے قاری صاحب نے ایسے ہی بتایا ہے اور ایسے ہی پڑھنا ہے۔ ان دنوں ہماری گھریلو مالی حالات بہت خراب تھے۔ والد صاحب سرکاری ملازم تھے اور اب بھی ہیں۔ ان کا تبادلہ دوسرے شہر میں ہوا تھا۔ بس اللہ ہی بہتر جانتا ہے حالات کچھ ایسے تھے کہ بیان کرنے کے قابل نہیں ہیں۔پھر میں نے اسی ترتیب سے پڑھنا شروع کیا۔ پہلے ہی دن میں نے کافی فرق محسوس کیا۔ مجھے ایسے لگا کہ جیسے کوئی چپکے چپکے میری مدد کررہا ہے۔ پہلے ذہن بوجھل اور پریشان رہتا تھا اب بالکل بھی نہیں ۔ اب جس چیز کو بھی دل چاہے وہ بلا کسی خرچ کے مل جاتی ہے۔ پہلے بھی مل جاتی تھی مگر اب تو پہلے سے زیادہ آسانی ہو گئی۔ تمام مشکلات ایسے غائب ہو گئیں جیسے کوئی جن بھاگتا ہے۔ عمل درج ذیل ہے۔ (i) سورۃ الفاتحہ و سورۃ اخلاص(ii)سورۃ یٰسین، سورۃ الرحمن(iii)سورۃ الفتح،سورۃ الکھف(iv) سورۃ النباء(v) سورۃ المزمل، سورۃ الواقعہ، (vi) سورۃ الملک، (vii) ”یَاسَمِیعُ“ اللہ کا نام۔ طریقہ: ہر نماز کے بعد ایک مرتبہ سورۃ الفاتحہ ، 3مرتبہ سورۃ اخلاص ایصال ثواب کی نیت سے پڑھیں۔ (1) فجر کی نماز کے بعد سورۃ یٰسین اور سورۃ الرحمن پڑھیں۔ (2) ظہر کی نماز کے بعد سورۃ الفتح اور جمعہ کے دن سورۃ الکھف بعد نماز جمعہ اور سورۃ فتح پڑھیں۔(3)سورۃ النباءعصر کی نماز کے بعد پڑھیں۔(4)سورۃ المزمل اور سورۃ الواقعہ مغرب کی نماز کے بعد پڑھیں۔ (5)عشا ءکی نماز کے بعد سورۃ الملک پڑھیں۔ (6) ”یَاسَمِیعُ“اللہ کا بہت پیارا نام ہے وہی ہے جو بندوں کی سنتا ہے۔ اس نام مبارک کو جمعرات کے دن بعد نماز ظہر 100مرتبہ کسی سے بات کیے بغیر پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنی جائز حاجات مانگیں۔ ان شاءاللہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور نوازیں گے۔ عمل کی شرائط: (1) جھوٹ بولنے سے پرہیز کریں۔ (2) کچا پیاز‘ لہسن اور بدبودار اشیاءجو منہ میں بدبو پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں چھوڑ دیں۔ کچا پیاز خواہ سلاد کی صورت میں ہو، دھلا ہوا ہو یا کسی بھی چیز میں کچا مکس ہو جیسے کہ دہی بھلوںمیں ڈال کر کھاتے ہیں، نہ کھائیں۔ (3) یقین کامل شرط اوّل ہے۔ (4) نماز کی پابندی لازم ہے۔ (5) عمل تسلسل سے کیا جائے۔ زندگی کے معمولات کا حصہ بنا لیا جائے۔ قارئین کرام یہ میرا ذاتی تجربہ اور آزمایا ہوا ہے آپ اس عمل کو کرکے دیکھیں اور پھر بتائیں کہ کیسا پایا؟

یا وہاب کا عمل اور رزق کا خزانہ

حق تعالیٰ کاسولھواں صفاتی نام” یَاوَہَّابُ“ہے۔ یہ اسم جما لی ہے اور اس کے اعداد 14ہیں۔ یہ اسم مبارک وہب اور ہبہ سے مشتق ہے اور اس کے معنی بخشنے اور عطا کرنے کے آتے ہیں۔ ایسی بخشش اور عطا کے جس کے پیچھے کوئی غرض نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوںکو بغیر کسی غرض سے عطا کرتا ہے۔ اس لیے بجا طور پر صرف وہی حقیقتاً ” یَاوَہَّابُ“ کہلانے کا حقدار ہے۔ اس اسم مبارک سے متصف ہونے کی صورت یہ ہے کہ اپنی جان و مال کو بندہ خدا کی رضا حاصل کرنے کیلئے بے دریخ خرچ کرے اور بغیر کسی مفاد اور لالچ کے اللہ کے بندوں کی مدد کرے۔ جو ایسا کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بے حساب رزق عطا فرمائے گا اور اسے کبھی محتاج نہ ہونے دے گا۔ علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ جو شخص فقر و فاقہ میں مبتلا ہو تو اسے چاہیے کہ چاشت کی نماز کے آخری سجدے میں چالیس مرتبہ” یَاوَہَّابُ“پڑھے۔ اگر اس عمل کی پابندی کسی نے چالیس دن کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کے فقر و فاقے کو دور کر دے گا۔ اکابرین نے فرمایا ہے کہ جو شخص صبح کی نماز کے بعد ” یَاوَہَّابُ“کا تین سومرتبہ درود کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس پر رزق کے دروازے کو کشادہ کر دے گا اور اسے اتنا عطا کرے گا کہ اس سے سمیٹا نہ جائے گا۔ بزرگوں نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص نصف شب کے بعد اپنے گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر تین سو مرتبہ ” یَاوَہَّابُ“ پڑھے گاتو چند دنوں میں اس کی غربت رفع ہو جائے گی اگر کوئی شخص دن میں دس بجے وضو کرکے قبلہ رو کھڑے ہو کرسورئہ علق کی آیت ” وَاسجُد وَ اقتَرِب “ پڑھے۔ پھر فوراً سجدے میں چلا جائے اور تین مرتبہ تسبیح پڑھنے کے بعد سات مرتبہ ” یَاوَہَّابُ“ پڑھے تو کچھ ہی دنوں میں اس کی مالی مشکلات ختم ہو جائیں گی۔ اکابرین کا معمول تھا جب انہیں کوئی حاجت درپیش ہوتی تو آدھی رات کے بعد وضو کرکے تین سجدے کرتے پھر ہاتھ اٹھا کر ایک سو مرتبہ ” یَاوَہَّابُ“پڑھا کرتے۔ تین روز کے عمل سے حاجت پوری ہو جاتی تھی۔ آج بھی جو صاحبِ ایمان اپنے بزرگوں کی تقلید، ایمان و یقین کے ساتھ کرے گا تو انشاءاللہ نفع ہی پائے گا۔ جناب محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ غریب آدمی اگر دن کو دس بجے وضو کرے پھر چار رکعت نماز بہ نیت قضائے حاجت ادا کرے۔ نماز سے فراغت کے بعد سجدے میں جائے اور ایک سو چار مرتبہ ” یَاوَہَّابُ“ پڑھے۔ ہر مہینے میں سات مرتبہ یہ عمل کر لیا کرے تو چند ماہ کے اندر اندر اس قدر رزق ملے گا کہ عقل حیران رہ جائے گی۔ منقول ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک مرتبہ مناجات کی اور پروردگار عالم سے پوچھا کہ اے پروردگار تجھ سے کس وسیلہ سے مانگوں تاکہ میری ہر دعا قبول ہو۔ جواب ملا اُس نام کا وسیلہ اختیار کر جس کے ذریعے مانگنے واے کو ہم بے حساب عطا کرتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دریافت کیا کہ وہ کونسا نام ہے۔ اس پر حق تعالیٰ نے اپنا نام ”یَاوَہَّابُ“ بتایا۔ جناب سلیمانؑ پر یہ نام واضح ہوا تو آپ نے اس کا ورد اختیار کیا اور اس کی برکت سے آپ کو جن و انس کی بادشاہت عطا کی گئی۔ اگر چاشت کے نفلوں کے آخری سجدہ میں اس کو 14بار پڑھے تو غنا، قبولیت اور ہیبت و بزرگی پیدا ہوگی۔

اللہ الصمد اور انمول خزانہ کی کرامات

میں کھاریاں شہر میں لیڈی ہیلتھ ورکر ہوں۔ ایک دفعہ میں کھاریاں کے ساتھ واقع ایک گاﺅں میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے گئی۔ ایک خاتون نے مجھے باتوں باتوں میں اپنی زندگی کا ایک سچا واقعہ بتایا جس کی میں نے گاوں میں موجودکئی خواتین سے تصدیق بھی کی ہے۔اس عور ت نے کہا باجی میرا میاں باہر کے ملک میں تھا۔ کمپنی نے میرے میاں کے 12لاکھ روپے دینے تھے کہ جھگڑا ہو گیا۔ انہوں نے میرے میاں کو واپس پاکستان بھیج دیا۔ اس وقت ان کے پاس تقریباً30ہزار روپے تھے جبکہ پچھلے 6ماہ سے انہیں تنخواہ بھی نہیں ملی تھی۔ گھر آئے تو میں نے پچھلے چھ ماہ سے قرضہ لے لے کرکاغذ کالے کیے ہوئے تھے۔ جب میں نے پیسے مانگے تو ناراض ہونے لگے کہ میرے پاس صرف 30ہزار روپے ہیں اور قرضہ تم نے 60ہزار روپے لیا ہے۔ میں کہاں سے دوں۔ جھگڑا اتنا بڑھا کہ بات علیحدگی تک جا پہنچی۔ کسی بزرگ نے مجھے یہ وظیفہ دیا کہ سوا کلو گندم کے ہر دانے پر ”اللّٰہُ الصَّمَدُ“ پڑھیں اور پھر نہر میں گرا دیں۔ آپ یقین جانیے صرف ایک دن دانے پھینکے، دوسرے دن کمپنی والوں نے 12لاکھ کا چیک انہیں بھیج دیا ۔امید تو دور کی بات، کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ پیسے مل جائینگے۔ چونکہ میں لیڈی ہیلتھ ورکر ہوں لہٰذا گھر کا ہر فرد مجھ پر اعتماد کرتا ہے۔ایک دفعہ ویکسینیٹر ٹیکے لگانے آیا تھا۔ میں ایک گھر میں بچے کو بلانے گئی کہ اس کی ماں بچے کو حفاظتی ٹیکہ لگوا لے۔ معلوم ہوا کہ ماں تو گھر میں نہیں ہے۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ گھر والوں سے روٹھ کر ہمسائے کے گھر گئی ہے۔ 5دن کی بیٹی تھی اور دوسری ڈیڑھ سال کی۔ گھر میںساس اور اس کا بیٹا بیٹھے تھے۔ میں ہمسائے کے گھر گئی۔ سردی کا موسم تھا۔ وہ عورت اپنی بچیوں کو لے کر لیٹی تھی۔ جہاں وہ عورت گئی تھی، بتاتی چلوں کہ ان کا ایک ہی کمرہ تھا، نہ کچن، نہ باتھ، نہ برآمدہ۔ جب میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی کہ بچی بیمار تھی۔ میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ میں کسی سے پیسے ادھار لے کر دوائی لائی تو خاوند آکر ناراض ہوا اور بات بڑھتے بڑھتے لڑائی جھگڑے تک پہنچ گئی۔ اب میں نے ادھر نہیں رہنا، اپنے میکے جاﺅں گی۔ گھر والے کہنے لگے کہ ہم نے اس کو کہا تھا کہ ہم تمہیں تمہارے والدین کے گھر چھوڑ آتے ہیں مگر اس نے انکار کر دیا۔ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا پڑھوں اور یہ مان جائے۔ میں نے دل ہی دل میں درود شرویف پڑھ کر خزانہ نمبر 2پڑھا۔ پڑھ کر اس عورت پر پھونکنا شروع کر دیا۔ تقریباً 21بار پڑھا ہو گا اور غیر محسوس طریقے سے 3پھونکیں ماریں۔ آپ یقین جانئے پتا نہیں مجھے کیوں اتنا یقین تھا کہ یہ مان جائے گی۔ میں نے اسے چلنے کو کہا۔ ایک بچی میں نے اٹھائی ایک اس نے اور میں اسے اس کے گھر چھوڑ آئی۔ اس کے خاوند اور ساس کو سمجھایا کہ ابھی کچھ نہیں کہنا۔ کم از کم میری لاج رکھنا بعد میں پتہ چلا کہ اس کے ہمسائے ناراض ہوگئے تھے کہ ہماری بات نہ مانی اور پرائی باجی کی مان لی۔ یہ خود میرا اپنا واقعہ ہے جو میاں بیوی میںانمول خزانہ کی وجہ سے صلح ہوئی۔ اس طرح کا ایک واقعہ میری ایک ساتھی کا ہے۔ اس نے میرے ذریعے ایجنٹ کے پاس اپنے میاں کا کیس جمع کروایا تھا تاکہ وہ بیرون ملک جا سکے۔ مجھ سے تقریباً 20ہزار روپے بھی دلوائے تھے۔ چھ ماہ گزر جانے کے بعد بھی اس کا کام نہیں بنا۔ میں خود پریشان ہو گئی تھی کہ نہ کام بنے نہ پیسے واپس ملیں۔ میں نے اپنی ساتھی کو درود شریف پڑھنے کا کہا مگر بات بنتی نظر نہ آئی۔ کافی دن سوچ بچار کے بعد میں نے اسے ”اَللّٰہُ الصَّمَدُ“ روزانہ ایک ہزار بار پڑھنے کو کہا۔ میں خود بھی روزانہ ایک ہزار بار ”اَللّٰہُ الصَّمَدُ“ کا ذکر کررہی تھی۔ یقین جانیے 21دن نہیںگزرے تھے کہ ایجنٹ میرے گھر آکر پیسے واپس کر گیا اور اللہ پاک نے اپنے نام کی برکت سے مجھے رسوائی سے بچا لیا۔
سرت ضیاء، گجرات) 

Wednesday, 16 April 2014

القھار کے زبردست کمالات اور صفات

  
(القھا ر) (زبر دست) (عدد = 306) قھار وہ ذات ہے جو اپنے بڑے بڑے دشمنوں کی کمر، ہمت توڑ دے بلکہ ہر مو جو د اس کے زور کے تا بع اور قبضہ میں عاجز ہو ۔ ( امام غزالی ) جو شخص اللہ تعالیٰ کی قہاریت کا مطلب سمجھ لے گا وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے قہر سے لرزاں ہو گا، اور خوف الہٰی سے مجبور ہو کر اس کی بارگاہ میں لطف و کرم کی التجا کرے گا۔ ( شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)۔ بندے میں قہارت یہ ہے کہ حق مخالف طاغوتی قوتوں کو پاش پاش کر دے۔ با طل پرستوں کے لیے اس کا وجود پیغام مو ت ثابت ہو، زر پرست، جاہ کے طلب ، دنیا کے دلدادہ ، ملک گیری و استعمار پرستی کی ہوس میں چور، اللہ تعالیٰ کی محبت سے دور رہنے والوں کو دنیا میں چین سے نہ بیٹھنے دے ( سوائے شریعت کے مستثنیہ مواقع کے ) علا وہ ازیں اپنے نفس کی خو اہشات پر پورا پورا تسلط حاصل ہو ۔ اس کی کوئی حرکت عقل و نقل کے خلاف نہ ہونے پائے اور ” رضائے مولیٰ از ہمہ اولیٰ “ کا مصداق ہو جائے ۔ ”واللہ المو فق والمعین “ ( حضرت لاہوری) اوراد و ظائف جو کوئی اس اسم پاک کو بہت پڑھتا ہے حق تعالیٰ دنیا کی محبت اس کے دل سے اٹھا دیتا ہے اور خاتمہ اس کا بخیر ہوتا ہے۔ اور حق تعالیٰ اس کے دل میںمحبت و شوق پیدا فرما دیتا ہے ۔ حب دنیا سے نجا ت : ۔ ہر مہم کے لیے اس کو سوبار پڑھے مہم اس کی آسان ہو گی ۔ اگر اس پر مداوت کر ے دنیا کی محبت اس کے دل سے جاتی رہے ۔ برائے مقہوری اعداء: ۔ اگر مقہور ی اعداءکی نیت سے صبح کی سنت و فر ض کے درمیان سو بار پڑھے تو دشمن اس کے مقہور ہوں ۔ ہلا کت اعداء:۔ شرف مریخ میں لو ح بنا کر پا س رکھے تو کوئی اس پر غالب نہ آئے اگر لو ح سامنے رکھ کر خلوت میں اسم پا ک ” یا قھار“ کا ورد کسی ظالم کے لیے کرے تو وہ ہلا ک ہو۔ عمل شرعاً جائز ہو تو کرے۔ حفاظت از شر نفس:۔ مریدوں اور اہل ریاضت کے لیے بہت ضروری ہے۔ نفس ان کا مغلو ب رہتا ہے ۔ شہوت سے حفاظت رہتی ہے۔ برائے دفع سحر : ۔ اگر کوئی شخص سحر کی وجہ سے عورت پر قادر نہ ہو یہ اسم پاک چینی کے بر تن پر لکھ کر اس شخص کو دھوکر پلایا جائے انشاءاللہ سحر دفع ہو گا۔ حل المشکلات :۔ اگر کوئی سخت مہم در پیش ہو تو سات روزے رکھے ، ہر روز ظہر کی نماز پڑھ کر گیارہ ہزار مر تبہ ” یا قھا ر “ پڑھے مگر اول آخر یہ درود شریف اکیس اکیس مر تبہ پڑھے (اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ سِرًّا وجَھرً ا۔ اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ فِی الاَوَّ لِینَ وَلاٰ خِرِینَ فِی المَلُاءِ الاَعَلٰی اِلٰی یومِ الدِّینِ) اور اسم پاک کو پڑھنے کے دوران ہر تسبیح کے ختم پر خیال کرے کہ ایک بجلی نے آسمان سے گر کر دشمن اور اس کی ساری کا ئنا ت کو جلا دیا ہے ۔ انشاءاللہ دشمن جلدی ذلیل ہو گا اور اگر کوئی دشمن مقابل نہیں ہے تو ہر ایک تسبیح کے اختتام پر یہ تصور جمائے کہ آسمان سے آگ نا زل ہوئی اور جس طر ح نمرود کی آگ نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی بیڑیاں اور لو ہے کا طوق جلا دیا تھا اسی طر ح اس آگ نے میری شکل کے بند جلا کر خاک کر دئیے ۔ یہ عمل سات روز جاری رکھے انشاءاللہ سات دن کے اندر اندر وہ مشکل کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو حل ہو جائے گی ۔ چونکہ یہ اسم پاک جلا لی ہے اس لیے اس عمل کے دوران خصوصی احتیا ط کی جائے ۔ پڑھنے والا صرف جو کی روٹی کھائے ۔ ختم پڑھنے والا صغیرہ کبیرہ گنا ہوں سے بچے ، تمباکو نوشی نہ کرے، پیا ز لہسن، مولی وغیرہ کوئی چیزنہ کھائے ورنہ عمل کی رجعت ہو گی ۔ امراض اطفال : ۔ اگر کوئی بچہ شیر خوار نہایت دبلا ہو جیسے اکثر ام الصبیا ن کی وجہ سے بچوں کو سوکھا لگ جا تا ہے تو آدھ کلو سرسوں کا تیل لیکر سامنے رکھا جائے اور قبلہ رو باوضو ہو کر ایک ہزار مر تبہ ” یا قھار“ پڑھ کر تیل پر دم کر دیا جائے ۔ وہ تیل صبح و شام اکیس روز تک بچے کے جسم پر مالش کیا جائے انشاءاللہ بچہ جلد تندر ست ہو جائے گا۔ گھر میں خلل و آسیب کے لیے :۔ اگر کسی گھر میںجن و آسیب کا خلل ہو یا وہاں رہنے سے ڈر لگتا ہو ایک کورے چراغ پر سات جگہ یا قہار لکھ کر تیل سے بھر کر روشن کیا جائے جس گھر میں گیارہ دن تک یہ چراغ روشن ہو گا ۔ انشاءاللہ بفضل خدا اس میں کوئی جن یا سانپ اور مو ذی چیز نہ رہے گی اور وہ مکان تمام آفتوں سے پاک ہوگا۔ البتہ اس گھر میں کوئی تصویر یا مورتی موجود نہ ہونی چاہیے ورنہ بجائے نفع کے نقصان ہو گا۔

صرف دس بار تلاوت اور نیک فرزند ملے

 
المتکبر ﴾بڑائی کر نے والا﴿ (عدد: 662) متکبر وہ ذات ہے جو اپنی ذات کے مقابلہ میں سب کو حقیر سمجھے ۔ عظمت اور بڑائی فقط اپنے نفس کے لیے جا ئز سمجھے۔ دوسروں کو اس نظر سے دیکھے جس طرح بادشاہ اپنے غلاموں کو دیکھا کرتے ہیں اگر یہ حالات سچے طور پر پائے جائیں تو تکبر ایسی ذات کے شایا ن شان ہو گا اور اگر یہ اوصاف نہ پائے جا ئیں اور تکبر پایا جا ئے تو یہ تکبر باطل اور مذموم ہو گا۔(امام غزالیؒ)حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے منبر پرفرمایا اے لو گو! متواضع بنو کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کی اللہ تعالیٰ اس کو سرفراز فرما ئے گا۔ وہ اپنے خیال میں ذلیل ہو لیکن لوگوں کی نظروں میں بہت بڑا ہو گا۔ اور جس نے تکبر کیا اللہ تعالیٰ اسے ذلیل کر دے گا۔ وہ لو گو ں کی نظر وں میں ذلیل اور اپنے خیال میں بڑا ہو گا یہاں تک کہ وہ لو گو ں کے ہا ں کُتے اور خنزیر سے بھی زیادہ ذلیل ہو گا۔ (رواہ البیہقی)ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا:۔ ” بڑائی میرا تہبند اور عظمت میری چادر ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی عظمت ، اس کا جلال اس کا رتبہ اور اس کی صحےح معنی میں قدر اورعزت کوپہچا ن لے گا وہ خو د بخود عاجزی و انکساری اختیار کرے گا۔ “انسان کو چاہیے کہ اپنی اصل کو نہ بھولے اور عاجزی وانکساری اختیار کرے کیوں کہ تکبر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو زیب دیتا ہے۔ اورادووظائف فرزند صالح کا حصول جو شخص بیو ی کے پاس جاتے وقت اس اسم پاک ”یا متکبر “ کی دس بار تلا وت کر ے گا اللہ تعالیٰ اسے نیک فرزند عطا فرمائے گا۔ حصول شرف و عزت جو شخص اس اسم پاک کی کثرت کر ے گا انشاءاللہ اسے عزت و جاہ حاصل ہو گی۔ اس کا ذاکر خلقت سے الگ یکسوئی کی تلا ش میں ہو گا دنیاوی ہنگاموں سے متنفر ہو گا۔ دینی مجا لس میں فرحت محسوس کرے گا۔ سر کشو ں کی ذلت شیخ مغر بی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے یہ ذکر صالحین اور عابدین کے اذکار سے ہے اس اسم پاک کے ذاکر میں تہذیب و شائستگی پیدا ہو تی ہے اور عوام و خواص کی نظروں میں صاحب عزت ہوتا ہے۔ اور اس کے سامنے سر کش ذلیل و سر نگوں ہوتے ہیں۔ بدخوابی سے حفاظت جس شخص کو بد خوابی یا سوتے میں ڈر لگتا ہو سونے سے پہلے اکیس دفعہ اس اسم مبارک ” یا متکبر “کو پڑھ کر خا مو ش ہو کر سو جا ئے انشاءاللہ کبھی بد خوابی نہ ہو گی۔ ہر برائی سے تحفظ اگر کو ئی شخص اس اسم پا ک کو499 دفعہ یا662 دفعہ جمعہ کے روز مکا ن کی دیوار پر لکھے تو اللہ تعالیٰ اس مکان یا شہر یا باغ کو ہربرائی سے محفوظ رکھے ۔ اور جو اس شر ف مریخ میں لکھ کر پاس رکھے گا سر کش اس کے سا منے ذلیل ہو گا۔

Tuesday, 15 April 2014

اولاد ایسی نیک ہو کہ دنیا مثال دے

  اولاد ایسی نیک ہو کہ دنیا مثال دے  
سورۂ فرقان کی آیت ہے جو درج ذیل ہے۔ میری ایک ملنے والی خاتون ہیں دونوں میاں بیوی کی نا بنی لیکن طلاق نہ ہوئی‘ بندہ علیحدہ رہنا شروع ہوگیا بیوی علیحدہ رہنا شروع ہوگی‘ان کا ایک ہی بیٹا تھا جب وہ اپنے ماں باپ کے گھر آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کے بھائیوں کے بیٹے بہت عیاش ہیں وہ بہت پریشان ہوئی کہ وہ اپنے بچے کی پرورش کیسے کرے گی۔
اس نے کسی سے پوچھا تو انہوں نے اس کوکہا کہ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوٰجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا ﴿فرقان۷۴﴾کی تسبیح صبح و شام ایک دفعہ پڑھیں۔ تمہارا بچہ اتنا نیک اور اچھا ہوگاکہ دنیا تمہاری مثال دے گی۔انہوں نے یہ تسبیح صبح و شام پڑھنی شروع کردی۔ اس نے بتایا کہ میں نے یہ عمل جس جس کو بھی بتایا ان کے بچے بھی اتنے ہی نیک ہوئے۔ اس بچے کا نام احسن ہے۔
وہ بچہ میرے بیٹے کو پڑھانے کیلئے آیا۔ وہ اس وقت آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے اس بچے نے بی ایس سی میں قرآن حفظ کیا ہے عالم فاضل عربی کا کوئی کورس کیا ہوا ہے۔ تین ایم اے کیے ہیں۔ حدیث کا کورس کیا ہے۔ سی ایس ایس کے پیپر دے رہا تھا۔
اسی دن اس نے ہمارے گھر سے نیٹ پر آکسفورڈ یونیورسٹی میں اپلائی کیا اور صرف تیس ہزار لگا اور وہ باہر چلا گیا۔ اس وقت اس یونیورسٹی میں پڑھا رہا اور اس وقت اتنا بہترین سیٹ ہے کہ آپ گمان نہیں کرسکتے۔ اس نے مجھے بہن کہا تو میرے گھر اکیلا نہیں آتا پہلے ماں کو لے کر آتا اب ماں فوت ہوگئی ہے تو بیوی کو لے کر آتا ہے۔ میں اب اپنے بچوں کیلئے بھی یہی پڑھتی ہوں۔مجھے جب احسن کی والدہ نے یہ عمل بتایا تھا تو میرا بیٹا پانچویں میں پڑھتا تھا میرے سسرال والے زمیندار ہیں ۔ ایک دن میرے بیٹے نے باپ سے کہا کہ بابا مجھے دبئی کی سیر کروا کر لائیں‘ میرے دوستو نے تو ساری دنیا دیکھی ہوئی ہے۔ میں نے دبئی بھی نہیں دیکھا ہوا۔
میرے شوہر لے گئے ان سب کو دبئی… وہاں میری ساری بیٹیوں اور بیٹوں نے کہا کہ ہم نے فائیوسٹار ہوٹل میں رہنا ہے۔ ہمیں ایک روپے کی شاپنگ بھی نہ کروائیں ہم نے فائیوسٹار میں رہنا ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ میری بیٹیاں بھی ہر بات پر مائنڈ کرتی ہیں۔ اماں… بابا نے ہمیں کلٹس کیوں لے کر دی۔ انہوں نے باپ کو کہا کہ ہم نے نہیںکلٹس پر جانا۔ باپ نے اپنی گاڑی دیدی۔ مجھے اس بات پر بڑا غصہ آیا۔ 
ان کیلئے اب میں ایک تسبیح پڑھتی ہوں ربنا ہب لنا… والی آیت جو اوپر مکمل دی ہے۔ پوری توجہ اور دل سے میں پڑھتی ہوں۔ یقین کریںجب سے میں نے پڑھا میری بڑی بیٹی جو کنیئرڈ کالج میں پڑھتی ہے اب سوزوکی میں بھی کالج چلی جاتی ہے۔ اب کہتی ہے کہ اماں ڈرائیور کو بڑا چکر پڑتا ہے فیول کا بھی خرچہ پڑتا ہے آپ میری وین لگوا دیں۔یعنی جو پہلے کہتے تھے ہم نے چھوٹی گاڑی میں نہیں جانا اب وین پر آگئے ہیں۔اس کے علاوہ اب جب میرا بیٹا پیپر دینے جاتا ہے تو میرا پیر چومتا ہے جب تک وہ میرے پیر نہیں چومتااس کو چین نہیں آتا اور باپ کے ہاتھ بھی چومتا ہے۔ میں نے یہ وظیفہ اپنے بچوں پر آزما لیا ہے اس سے بڑی اور کیا بات ہے۔یہ اتنی اعلیٰ آیت ہے کہ آپ اس آیت پر اپنے اور مشاہدات کریں نافرمان بچوں پر آزمائیں ۔ کیونکہ آج کل کا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ لوگوںکے بچے آج کل بڑے اوقات سے باہر ہیں۔
گندے اثرات سے نجات:میر ی ایک رشتہ دار ہیں ان کی بچی خوش شکل ہے‘ بچی پر گندے اثرات ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا اب کیا کریں؟ میں نے انہیںدو آیتیں بتائی ہیں سورت مومنون کی آیت 98-97 ۔ان آیات کو صبح و شام پڑھ کر پانی پر دم کرکے یہ پانی بچی کو پلانا ہے اور کہا انشاء اللہ پانچ دن میں آپ کی بچی ٹھیک ہوگی۔ اور یہی ہوا کہ پورے پانچویں دن کے بعد اس کا بخار اتر گیا۔ 
نشے سے نجات: رَبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ وَ اَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ﴿المومنون 97تا98﴾یہی آیتیں نشہ چھڑوانے والی ہیں کوئی بندہ کتنا ہی نشے کا عادی ہے اس پر سات دفعہ پڑھ کر پھونک ماردیں انشاء اللہ اس کے نشے کی عادت چھوٹ جائے گی۔ جب عمل کریں تو نشئی کو مت بتائیں کیونکہ نشئی بُرا مناتےہیں کہ ان پر دم درود کیا جارہا ہے‘ کئی ماں باپ کے بچے آج کل بچپن میں ہی عاشقی معشوقی میں پڑ جاتے ہیں یہ عمل اس کیلئے بھی بڑا زبردست ہے۔ آپ یہ عمل پڑھ کر پانی پر پھونک کر جس میں سے سارے گھر والے پانی پیتے ہیں اس میں ڈال دیں۔ ہر نماز کے بعد سات دفعہ۔ اول و آخر درود شریف تین تین دفعہ بے شک کوئی سا بھی درود شریف ہو۔
انشاء اللہ شرطیہ بیٹا:ہمارے گھر میرے بچوں کو ایک عالم قاری صاحب پڑھانے آتے ہیں‘ انہوں نے کہا کہ سورۂ مزمل‘ مدثر‘ مریم‘ یہ آپ نے صبح کی نماز ٹائم پر پڑھنی ہے یہ نہیں جب ٹائم ملا پڑھ لی۔ ٹائم پر نماز پڑھ کر تینوں سورتیں پڑھنی ہیں اور پانی پر پھونک کر پی لیں اور پورے نو مہینے پڑھنی ہے۔اور عصر کے بعد سورۂ محمد۔ انہوں نے کہا کہ گارنٹی ہے کہ اگر آپ سے یہ نہ چھوٹی تو آپ کا بیٹا ہوگا۔ 
خطیب صاحب نے کہا میں نے یہ بارہ لوگوں کو بتایا ہے اور اللہ نے سب کو بیٹا ہی دیا ہے۔ آپ بھی یہ پڑھیں۔
میں نے یہ پڑھنا شروع کردیا۔ پورے نومہینے میں نے یہ عمل کیا اور مجھے اللہ نے بیٹا بھی دیا ہے اور بیٹی بھی دی ہے۔ اس کے بعد یہ سورۂ مزمل‘ مدثر‘ اور مریم میں نے جس کو بھی بتائی ہے اللہ نے سب کوبیٹا دیا ہے۔ لوگ پڑھتے نہیں ہیں جنہوں نے بھی پڑھا ہے اللہ نے ان کو بیٹا ضرور دیا ہے۔ ابھی حال ہی میں میری ایک دوست ہیںاس کو بھی میں نے یہ تینوں سورتیں بتائیں‘ اس کو بھی اللہ نے بیٹا دیا اور اس نے بھی محمد نام رکھا ہے۔ آپ نام محمد سوچ لیں تو آپ کا بیٹا پکا۔(انشاء اللہ)
جھوٹے الزام سے نجات: دو نفل حاجت کے پڑھ لیں جس وقت آپ اشراق کی نماز پڑھتے ہیں اور ساتھ آپ دعا کریں۔ بس دو نفل گیارہ دن پڑھیں اور کچھ نہیں پڑھنا اور دعا کرنی ہے۔
زبان بندی کیلئے: زبان بندی کیلئے صُمٌّۢ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَایَتَکَلَّمُوْن حکیم صاحب یہ وظیفہ میرا بہت آزمودہ ہے… اس کو میں کم از کم سو بندوں پر آزما چکی ہوں۔کوئی بندہ کسی بھی مسئلے میں آپ کے خلاف بول رہا ہے تو آپ کو پتہ چل جائے گا۔یہ اکتالیس دفعہ ایک بار ایک بندے کیلئے پڑھنی ہے کوئی بھی بندہ آپ کے خلاف زبان استعمال کررہا ہے صرف ایک دن اکتالیس دفعہ پڑھ کر اس بندے کا تصورکرکے اس کی طرف پھونک ماردیں۔ اس کے بعد وہ بندہ زندگی میں آپ کے خلاف بول نہیں سکتا۔ ایسا اس کو چپ کا روزہ لگتا ہے کہ بس۔ یہ میرا آزمودہ ہے۔لیکن یہ عمل ناجائز اور بلاوجہ نہیں کرنا چاہیے۔
دس گیارہ پر تو میں نے خود آزمایا ہے۔ اپنی کزنز اور دوسرے رشتے داروں کو‘ بلکہ ہمارے ایک بزرگ ہیں ‘ہومیو پیتھک ڈاکٹرہیں خود بھی بڑی آیتیں بتاتے ہیں ان کو بھی بتایا۔ ایک دن کہنے لگے کہ باجی یہ جو سامنے والا دکاندار ہے آج کل اتنی باتیں کررہا ہے میرے خلاف کہ میں اس سے بڑا تنگ ہوں۔ میں نے ان سے کہا ڈاکٹر صاحب آپ خود بڑے پڑھے لکھے آدمی ہیں آپ یہ بھی پڑھ کے دیکھ لیں۔ اس ڈاکٹر نے مجھے خود فون کیا کہ باجی وہ تو ایسے چپ ہوا کہ بس… اس کے بعد میں نے کافی لوگوں کو بتایا بھی اور پڑھا بھی اور سب پر ہی اثر ہوا ہے اور یہ بڑی چھوٹی سی چیز ہے کوئی اتنی خاص چیز بھی نہیں ہے۔
ہڈیوں کے درد کا علاج:یہ نسخہ میں نے تازہ تازہ اپنی والدہ پر آزمایا ہے۔ میری والدہ کو گھٹنوں کی درد تھی یہ عمل میں نے کسی رسالہ میں پڑھا تھا۔2نفل کے بعد3 مرتبہ سورۂ یٰسین پڑھیں۔ میری امی کہتی ہیں کہ تم نے مجھے کوئی جادو کی چیز بتا دی ہے۔ کہتی ہیں کہ میں بیٹھ کر نماز پڑھتی ہوں اور یہ سورۂ پڑھ کر اپنے گھٹنوں پر ہاتھ پھیرلیتی ہوں۔ میری درد میںتو زمین و آسمان کا فرق پڑگیا ہے۔اب کہتی ہیں کہ میں بڑے آرام سے اٹھ بیٹھ لیتی ہوں۔
خوف دور کرنے کی دعا: میرا ذاتی تجربہ ہے مجھے بچپن سے جن اور بھوتوں سے بڑا ڈرلگتا ہے میں چھت پر نہیں جاتی تھی۔ لیکن اب میں یہ آیت کریمہ پڑھتی ہوں اور آرام سے سیڑھیاں چڑھ کے چھت پر چلی جاتی ہوں۔ نہیں تو جب تک میں نوکر یا بچہ ساتھ نہیں لیتی تھی سیڑھیاں نہیں چڑھتی تھی اب میں یہ پڑھتی ہوں اور اکیلی ہی اوپر چلی جاتی ہوں۔